حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے اپنے درس خارج فقہ میں صاحب جواہر (رح) کی علمی عظمت کا تذکرہ کیا جو ہم آپ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں:
کچھ ایسے بحری جہاز ہوتے ہیں جو سمندر میں چلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ہر ناخدا ان جہازوں کو نہیں چلا سکتا جو سمندر میں سفر کرتے ہیں۔ سمندروں میں سفر کرنے والے جہاز محدود ہوتے ہیں اور وہ ناخدا بھی محدود ہوتے ہیں جو ان جہازوں کو سمندروں میں چلا سکتے ہیں۔ وہ ناخدا جو سمندر کی گہرائیوں سے واقف ہوتے ہیں، جانتے ہیں کہ کچھ مقامات ایسے ہوتے ہیں جہاں سمندر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ وہاں لنگر ڈالنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گہرائی جاننے کے لیے ان مقامات پر بھی لنگر ڈال دیتے ہیں۔ صاحب جواہر اسی قسم کے ہیں۔
جہاں بہت سے مسائل پیچیدہ در پیچیدہ ہوتے ہیں اور کئی مشکلات ہوتی ہیں، وہاں دوسرے لوگ ’’وغیرھا‘‘ اور ’’ونحوھا‘‘ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن وہاں صاحب جواہر کچھ دیر ٹھہرتے ہیں اور غور کرتے ہیں کہ اس کی گہرائی کتنی ہے۔
صاحب جواہر اور دوسروں میں یہ فرق ہے کہ جہاں خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور دوسرے لوگ لنگر نہیں ڈالتے، وہاں وہ لنگر ڈالتے ہیں۔
ماخذ: درس خارج فقہ: 97/08/02، 24 اکتوبر 2018ء









آپ کا تبصرہ